جوطوفاں تمہاری طرف بڑھ رہا ہے،اُسے روکنا ہے تو ہشیار رہنا!!!
اداریہMarch 22, 2019
پاکستان کی طرف سے سرکاری اورریاستی سرپرستی میں کم وبیش دو دہائیوں سے بھارت کےساتھ امن کی آشائیں بھی منائی گئیں اورزیتون کی ڈالی منہ میں دبائے فاختائیں بھی اُڑائیں گئیں…جہادِ کشمیر‘جوبھارت کے لیے سوہانِ روح بن چکا تھا ‘کا گلا بھی گھونٹا گیا اورکشمیری جہادی تنظیموں کا ناطقہ بھی بند کیا گیا…آگرہ کے تاج محل سے لے کر لاہور کے شاہی قلعہ تک ’’امن وآشتی‘‘کاپرچاربھی کیا گیا…بھارت کو پسندیدہ ملک قراردینے سے لے کرعسکری ’’گرین بک‘‘میں اُسے فہرست ِدشمناں سے نکالنے تک ہرجتن کیا گیا…لیکن پاکستان پر حکمرانی کرنے والے سیاست دان اور جرنیل ہمیشہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہندوبنیا‘مسلمانانِ برصغیر سے اپنی ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کے لیے ہردَم بے چین اوربے قراررہتا ہے…پاکستان کےان تمام Good Gestures اورConfidence Building Measuresکے جواب میں بھارت کی طرف سے ہمیشہ یہی ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف اپنے تمام ناپاک عزائم کی تکمیل ہی کے اشارے بھی ملے اورمسلمانوں کوکچلنے اوردبانے کےہرطرح کے ہتھکنڈے بھی استعمال ہوئے۔گجرات کے مسلم کُش فسادات ہوں یا پورے انڈیا میں ہندوبلوائیوں کے نہتے اورمظلوم مسلمانوں پر حملے،گاؤ رکھشا کی تحریک ہویا بابری مسجد کی شہادت اور رام مندر کی تعمیر،کشمیر میں مسلمانوں پر پیلٹ گن حملوں سے لے کرہر طرح کے ظلم وتشددکوروا رکھنا ہویاہند بھر میں مسلمانوں پر مختلف پابندیاں…بھارت ایک لمحہ کے لیے بھی ان سے پیچھے نہیں ہٹا…بھارت کے ان اعمال وافعال سے متعلق وطن پرست طبقات یہی کہیں گے کہ وہ اپنے ملک میں جو چاہے کرے،ہمیں اس پر بولنے کا کچھ حق نہیں!لیکن معاملہ صرف اندرونِ بھارت کا نہیں ہے بلکہ اگر خالص وطنی جذبات کو مدنظر رکھ کر بھی دیکھا جائے تو بھارت نے پاکستان کے مقابلے میں پوری دنیاکے کفر کواپنا ہم نوا وہم پیالہ بنا کر خود کوعسکری،معاشی،تجارتی ،سفارتی اورسیاسی طورپرمضبوط سے مضبوط تر کیا ہے اوریوں وہ جنوبی ایشیا میں امریکی چھتری تلے ’’پردھان‘‘بننے کے لیے پوری طرح تیار بیٹھا ہے!جب کہ پاکستان پر مسلط طبقہ ‘ملک کو ہرحوالے سے نچلی ترین سطح پر لے گیا ہے…دم توڑتی معیشت، ڈوبتی تجارت،ہنگام وآفات سے پُر سیاست اوردنیا بھر کے سامنے گھٹنے ٹیکتی سفارت‘اس ملک کا مقدربن گئی ہیں…عسکری طورپر اگر پاکستان کومضبوط سمجھا جارہا ہے تو وہ بھی بھارت کے مقابلے کے لیے نہیں[کیونکہ وہ تو عسکری نصاب میں دشمنوں کی فہرست میں ہی سرے سے موجود نہیں ہے]بلکہ مجاہدین اور اسلام پسندطبقات کے لیے تمام ترعسکری مضبوطی اوراسلحہ ،بارود اور جنگی تیاری کاپورا نظام مضبوط کیا گیا ہے۔اگر کسی کو شک ہوتو صرف ایک مثال اس شک کو رفع کرنے کے لیے کافی ہے کہ ۹۰ءکی دہائی میں پاکستان نے امریکہ سے ایف سولہ طیارے خریدنےکا معاہدہ کیا اوراس کی پیشگی رقم بھی ادا کی،لیکن امریکہ کی طرف سے مختلف حیلوں بہانوں کی آڑ لے کر اس معاملے کو لٹکایا جاتا رہا تاآنکہ اب کچھ سال پہلے ایف سولہ طیارے دگنی چوگنی قیمت پر پاکستان کے حوالے کیے گئے لیکن اس کے لیے شرط یہی رکھی گئی کہ یہ طیارے کسی بھی صورت میں بھارت کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے بلکہ Islamic Militancyہی ان کا اول وآخر ہدف ہوگی!!!
ان حالات میں پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے سوچنے سمجھنے کے لیے بہت سے سبق پنہاں ہیں… اس سے پہلے کہ پکارنے والے پکاریں اوردہائیاں دینے والے چیخ چیخ کردہائیں دیتے رہیں کہ
مژگاں توکھول،شہر کو سیلاب لے گیا!
میڈیا کی چیخ چنگھاڑاورشوروغوغہ کے دامن چھڑوائیں اورحالات جس نہج پر جارہے ہیں اُن پرگہراغوروتدبرکریں…تین اطراف سے اپنی جانب بڑھتے ہوئے اس اس سیلابِ بلاخیزکے آگے بندباندھنے کی تدبیرکیجیے!!!حقیقت یہی ہے کہ یہ صرف بھارت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ آپ کے تین اطراف میں ظاہری اور خفیہ دشمن بیٹھے ہیں…اور آپ سےان سب کی دشمنی صرف اور صرف اسلام اورایمان کی وجہ سے ہے!بھارت کی دشمنی کسی سے مخفی نہیں!سوائے رائیونڈ،سرے اوربنی گالہ کےمحلات والوں کےاورسوائے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیوں اورکنٹونمنٹ میں بسنے والی مخلوق کے!!!
چین کو آپ کا بہترین دوست باورکروایا جاتا ہے لیکن چین اپنے زیرِقبضہ مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کے ساتھ جوبھیانک ترین مظالم ڈھا رہا ہے ‘اُن کی چندجھلکیاں ہی اب تک دنیا تک پہنچ پائیں ہیں اور دنیاکے مختلف ممالک ،اداروں او رافراد کی جانب سے اس پرتنقید کاسلسلہ جاری ہے…آپ کا حکمران طبقہ‘چین کے عشق میں سرشار ہے اورچین کے ساتھ معاشی معاملات میں بالکل وہی رویہ اپنا جارہا ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ اُس وقت کے حکمرانوں نے اپنایا تھا،پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں مسلمانانِ برصغیر پرکیسی آفتیں ٹوٹیں یہ تاریخ کا حصہ ہے اوراِنہیں آفتوں سے اب تک برصغیر کے مسلمان نبردآزما ہیں!چین‘استعماریت کی ایک جدید اورزیادہ منظم ومربوط صورت کے ساتھ ابھرا ہے…اب تک استعمار کا طریقہ واردات یہی رہا ہے کہ ملکوں اور خطوں پر عسکری طاقت کے بل بوتے پر قبضہ کرتا چلا آیا ہے لیکن چین نے معاشی اورافرادی قوت کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کا رواج ڈالا ہے اورمختلف ممالک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کراُن کی پالیسی سازی سے لے کراُن پر حقیقی ومعنوی قبضے تک کے مراحل طے کررہا ہے۔یہی طریقہ پاکستان کے ساتھ بھی روا رکھا جارہا ہے اوراربوں ڈالرکے قرض اورچینی افرادی قوت کے سیلاب کی صورت میں پاکستان کو مکمل طورپر اپاہج بنا دینے اوربالآخرایک نئے ’’مشرقی ترکستان‘‘کی شکل دینے پرچینی برسرعمل ہیں!یقین کیجیے کہ جس چین کی دوستی کوہمالیہ سے بلند اور سمندر سےگہری قراردیا جارہا ہے‘وہ وقت قریب ہی آن لگا ہے جب یہی چین آپ کو محض آپ کے مسلمان ہونے کی پاداش میں ہمالیہ کی بلندیوں سے نیچے گرانےاورسمندر کی تہوں میں غرق کرنے سے ذرہّ بھر سے نہ ترددنہ برتےگا !!!
یہی معاملہ ایران کا ہے!وہ شام ،عراق اور یمن کے مسلمانوں کے خون سے لتھڑے ہوئے اپنے‘پنجے پاکستانی مسلمانوں پرگاڑنے کے لیے پرتول رہا ہے!بظاہر امریکہ دشمنی کا لبادہ اوڑھے ہوئے رافضی ایران ‘پوری دنیا میں اہلِ سنت کے خلاف برسرپیکار ہے۔یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ اپنے پہلو میں موجود عظیم اکثریتی اہل سنت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرسکے؟اُس کی درندگی کے مظاہرآپ شام اور عراق میں دیکھ لیجیے اور’’شیعہ سنی اتحاد‘‘کے راگ الاپنے والوں کے سامنے بھی یہی مناظر رکھا کیجیے کہ وقت آنے پر اس تمام ظلم کواہلِ پاکستان پر ڈھانے میں ایران کو ذرا بھی تامل نہ ہوگا!!!یہاں تو ہر چھوٹے بڑے شہر کے اہم اور حساس مقامات اورشاہراہوں پرویسے ہی امام باڑوں کے نام پر رافضی مورچے پوری طرح قائم ودائم ہیں!!!لہٰذاایرانی صدر اورپاسدارانِ انقلاب اگر پاکستان کو دھمکا رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ یہ صرف دھمکیاں نہیں ہیں بلکہ بھارت ایران گٹھ جوڑ آپ کے ایمان،عزت، آبرو،جان اورسرزمین کے درپے ہیں!
روافض نے اپنی سرکشی،شر اورفتنہ گری سے اسلام اور اہل اسلام کی دشمنی کاحق ہردورمیں ادا کیا ہے…زمانۂ موجود میں بھی اس فسادی گروہ نے مختلف مسلم خطوں اور ممالک میں اپنے پنجے گاڑنے شروع کیے ،کج فہم لوگ خون مسلم کی اس ارزانی کو’’فرقہ ورانہ فسادات‘‘کی عینک کے عدسوں سے دیکھنے کے علاوہ کچھ کرنہیں سکتے کیونکہ اُن کے پاس اس عینک کے اتار دینے کے بعد کرنے کو کچھ بچتا ہی نہیں… مجاہدین روزِ اول سے علی وجہ البصیرت کہہ رہے ہیں کہ رافضی فتنہ کی اسلام سے مخاصمت کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے ،اسلام کی پوری تاریخ میں روافض کے شر،سرکشی ،فتنہ گری اور فساد پسندی کو جابجا دیکھا جا سکتا ہے،ہردور میں مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار کفار کی قوتوں نے اس سبائی فتنے کی آبیاری اوربڑھوتری میں اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے…جس کا مقصد و محور صرف یہی تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ زک پہنچائی جائے…آج بھی اس آشوب اورشورش کو اسلامی سرزمینوں میں کھینچ لانے کے پیچھے صلیبی کفار کا خفیہ ہاتھ کارفرما ہے اور اب یہ زیادہ خفیہ بھی نہیں رہا…امریکی آشیر بادمیں عراق اورشام میں اہلِ سنت پرعرصہ حیات تنگ کردینے کے بعد لبنان اور یمن تک اس فساد کی لہریں پھیل چکی ہے!
مستقبل کا یہ منظرنامہ کوئی ایساامر نہیں ہے جو محض تخیلاتی ہواورجسے ایک اَن ہونی کہہ کربےفکری سے ردکردیا جائے!بلکہ اقبال مرحوم کے الفاظ میں کہاجائے توبے جانہ ہوگا کہ
؎کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں
آنے والے دَور کی دھُندلی سی اک تصویر دیکھ
ایسے میں یہ اگرآپ یہ امیدلگائے بیٹھے ہیں کہ پاکستانی فوج ‘ان تمام حالات میں حفاظت و نگہبانی کے لیے کافی ہوگی تو اسے کم سے کم بھی بھیانک ترین خوش فہمی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے…یہ فوج اور اس کے ادارے ایسے وقت میں پورے ملک کو’’جاگ اُٹھا ہے سارا وطن‘‘کی دُھنیں سنوا کر صرف اور صرف ذہنی ہیجان میں مبتلا کرسکتے ہیں،اوروقت آنے پر یہ ’’بھاگ اُٹھا ہے سارا وطن‘‘کی عملی تصویربن جاتے ہیں…اس پرڈھاکہ کاپلٹن میدان گواہ ہے جہاں ۹۰ہزارمسلح ’جوانوں‘نے ہندو بنئے کے آگے ہتھیار ڈالے تھے،جہاں نوے ہزارمسلح فوجیوں نے ذلت آمیز شکست کو قبول کیا ،مشرکینِ ہند کے سامنے تسلیم ہوئے اوراپنا ساتھ دینے والوں کو پھانسیوں پر جھولتا چھوڑ کرگالف کلبوں میں شامیں بسر کرنے اورڈی ایچ اےکےراحت کدوں میں فراواں سامانِ تعیش میں زندگیاں گزارنے میں مگن ہوگئے!پھر صرف پلٹن میدان ہی کیا،کارگل اورکشمیر کے محاذبھی یہ گواہی دینے کو ہردم تیار ہیں!ابھی حالیہ دنوں میں بھی دیکھ لیجیے کہ ’’ہم سوچیں گے نہیں بلکہ عمل کریں گے‘‘کی بڑھکیں لگائی گئیں لیکن درجن بھر بھارتی جنگی جہازوں کا سکواڈ آیا اور بالاکوٹ تک پہنچ کر بم باریاں کرکے بحفاظت واپس چلا گیا لیکن ’’سوچے بغیرجواب دینے والوں‘‘کی نیندمیں خلل بھی واقع نہ ہوا!آئی ایس پی آر نے ترجمان نے اس موقع پر کہا کہ ’’اب ہماری باری ہے،ہم بھارت کو حیران کریں گے‘‘…کئی دن گزرتے ہیں لیکن بھارت کوحیران کرنے والوں کی طرف سے ہی خبریں موصول ہوتی ہیں کہ ایل اوسی پر بھارتی توپوں کی شیلنگ سے اتنے اور اتنے کشمیری شہید،پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی توپیں خاموش!‘‘…اب معلوم نہیں یہ کیسی ’’خاموش بھارتی توپیں‘‘ہیں جوچند ہی گھنٹوں بعد دوبارہ سے ’’بولنے‘‘لگتی ہیں اورپھر سے ایل اوسی کے قریب بسنے والےدرجنوں کشمیری مسلمانوں کی جانیں ،اموال اور گھرباربربادہوکررہ جاتا ہے!پھر مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق دو بھارتی جہازوں کو گرایا اور پائلٹ کو گرفتار کیا گیا لیکن چند ہی گھنٹوں میں دشمن ملک کے اُس پائلٹ کو ‘جو یہاں کے مسلمانوں پر بم باری کرنے آیا تھا‘بحفاظت ہندوستان کے حوالے کردیا گیا!ان کاہرہرعمل ان پر حجت تمام کرتاچلاجارہا ہے اوریہ ثابت کرتاچلا جارہا ہے کہ ان کی تمام ہمدردیاں،ساری دلی وابستگیاں اوررحم کاتمام ترجذبہ کافروں،مشرکوں اورصلیبیوں کے لیے ہےجب کہ اہلِ ایمان اوردین پسندوں کے حق میں یہ شدید ہیں،سخت ہیں اورظالم وجابر ہیں! جس فوج کے سرونگ لیفٹیننٹ جنرل اوربریگیڈیئرکے عہدوں پر سی آئی اے کے ایجنٹ بیٹھے ہوں،جس کی ’’نمبرون‘‘خفیہ ایجنسی کا سابق سربراہ ، بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر کتاب لکھے اورکتاب میں ’’اکھنڈ بھارت‘‘کے نظریے کی مکمل تائید وحمایت کرے،جس کا حال یہ ہو کہ اُس کا سرونگ آرمی چیف ‘ہی وہ فرد ہوجوسابق بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ (وہی بکرم سنگھ جس نےمقبوضہ کشمیر میں اپنی تعیناتی کے دوران کشمیری مسلمانوں پرظلم وجبرکےاَن گنت پہاڑتوڑے)کے زیرکمان اورماتحت رہ کر کام کرچکا ہو،اُس سے خیر کی توقع اورمسلمانوں کے دفاع کی امید لگانا چہ معنی دارد؟؟؟!!!
ان کی تاریخ شاہد ہے کہ یہ اپنے ہم وطنوں کے خلاف اسلحہ اٹھا کراوراُنہیں زیروزبرکرنے کے لیے ہمیشہ شیر رہے ہیں جب کہ بھارت سے مقابلہ کا نہ ان میں حوصلہ ہے اور نہ دَم خم!اسی لیے پاکستانی جرنیلوں نے ’’فوجی ڈاکٹرائن‘‘سے بھارت کے خطرہ اوردشمنی کو نکال باہر کیا اوراللہ تعالیٰ کی شریعت کوحرزِ جان بنانے والوں اوراُس شریعت کے نفاذ کی خاطر‘ اللہ کے دشمنوں سے برسرپیکار مجاہدین کو اپنا اولین دشمن قراردیتے ہوئے ان کے خلاف اپنی تمام توانائیاں اورریاستی قوتیں جھونک دیں۔صرف ایک مثال سے ہی بات سمجھ آجائے گی کہ بھارت نے جہادِ کشمیرکے نتیجے میں بدترین دن دیکھے ہیں کہ آج تک اُس نے کشمیر میں مجاہدین کے خلاف فضائی بم باری نہیں کی جب کہ پاکستانی فوج نے سوات اورقبائلی خطے کوفضائی بم باریوں سے کس طرح ادھیڑ کررکھ دیا‘وہ سب کے سامنے ہے۔ان کے جنگی جہاز یا تو مجاہدین اوراہلِ اسلام پرآتش وآہن کی بارش کرسکتے ہیں یا پھر دنیا بھر میں ہونے والے ’ایئرشوز‘میں دھواں چھوڑنے کےمظاہرے کرسکتے ہیں!بھارتی مشرکین کے خلاف کوئی اقدام اِن کی طرف سے ہو یہ ناممکنات میں سے ہے!کیونکہ جس فوج نے دودہائیوں تک اُس جنگ میں عالمِ کفرکی’’فرنٹ لائن اسٹیٹ‘‘کا کردار اداکیا ہو،جوازاول یاآخرصلیبی جنگ ہے ‘وہ فوج کفارکے لیے کیونکرسخت اوراہلِ ایمان کے لیے کیسے نرم خُوہوسکتی ہے؟یہ فوج نہ کل سرزمینِ پاکستان کے مسلمانوں کادفاع کرسکی ہے ناہی آئندہ کبھی اس سے یہ امید باندھی جاسکتی ہے!اس ڈالرخورفوج کا کام تومسلمانانِ پاکستان کولوٹنا،کھسوٹنا،دبانا، نوچنا،قتلِ عام کرنا ،ان کی گردنوں پر سوار رہ کرعیش وطرب کا سامان کرنا اورکفارکی ہر طرح سے خدمت گزاری کرناہی ہے!بقول حبیب جالب
؎سرحدوں کی نہ پاسبانی کی
دادلی ہم ہی سے جوانی کی
عسکری وسفارتی دونوں سطح پر بھارت نے پاکستان کا ناطقہ بند کررکھا ہے!اوراس جانب حالات یہ ہے کہ خائن جرنیل اوربدعنوان سیاست دان ‘ بھارت کو عملی طورپرکوئی جواب دینے کی بجائے محض میڈیائی پروپیگنڈے کے زور پر ’’دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچائے ہوئے ہیں‘‘۔بھارت انہیں آنکھیں دکھاتا ہے بلکہ ان کی آنکھیں نکال لینے کے درپے ہے لیکن ان کی تان صرف ’’دشمن کی توپیں خاموش کروانے‘‘جیسے بیانات پر آکر ٹوٹتی ہے!ایک وقت تھا کہ کشمیر کی تحریک ِجہاد نے بھارت کو عسکری و معاشی طور پر نڈھال کررکھا تھا،اگر بھارت کےمظالم سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے اوراُس کا زہر نکالنے ہی کے لیے یہ فوج اتنی بے تاب تھی تو کشمیر میں تحریک ِجہاد کے ساتھ خیانت اور غدر کرنے والوں کا تعلق کس قبیلہ سے تھا؟؟؟معرکہ گیارہ ستمبر سے پہلے پاکستانی فوج اورخفیہ اداروں کی جہادکشمیرسے غداری کی وارداتوں کی تفصیلات ہر کشمیری مجاہد کے سینے میں موجود ہیں!موجودہ صلیبی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستانی فوج کے لیے ’’مستقل روزگار‘‘کابندوبست ہوگیااورصلیبی لشکروں کے صف ِاول کا اتحادی بننے کے عوض ڈالروں کی ’’بہار‘‘آگئی… ایسے میں کشمیر کی تحریک ِجہادکوکاروبار بنانے والوں کے لیے یہ ’’گھاٹے کاسودا‘‘ہی قرار پایا۔لہٰذا اس تحریک کو لپیٹنے ،بھارت کی نرخرے میں آئی جان کو اُس کے جسم میں لوٹانے اوراُسے قوی وجسیم بنانے کا فیصلہ کسی اور نے نہیں بلکہ ’’پنڈی والوں‘‘نے ہی کیاتھا!
ان بددیانت اورغدارجرنیلوں سے کوئی پوچھے گا کہ بندروں کے پجاری ہندوتواس ملک کے مسلمانوں کے خلاف اپنے ازلی بغض وعداوت میں پھنکار رہے ہے !’خاکیوں ‘کے پاس ان کے مقابلے کے لیے ’’باجوہ پروڈکشن ہاؤس‘‘میں تخلیق کیے اور فلمائے جانے والے گانوں اور ڈھول تاشوں کے علاوہ بھی کچھ ہے؟!یاسب کچھ مظلوم قبائلی مسلمانوں ، غیورپختونوں ،خودداربلوچوں اور’بلڈی سویلینز‘کوکچلنے مسلنے کے لیے ہی ہے!اورہرطرح کے مہلک ہتھیار،جنگی طیارے،گن شپ ہیلی کاپٹر،آرٹلری،ٹینک اورگولہ بارود‘مسلمانوں کے قتلِ عام ہی کے لیے مختص ہے!بھارت سے ہونے والی چار باقاعدہ جنگوں میں تو ’’ڈھول سپاہیے‘‘بری طرح پٹے ہیں …اپنی ساکھ بچانے اورقوم کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے لیے لے دے کر ۶۵ء کی جنگ ہی رہ جاتی ہے جس کے متعلق ’’معاشرتی علوم ومطالعہ پاکستان‘‘کی حدتک یہ فاتح قرار پاتے ہیں!لیکن اس ’’فتح‘‘کاسہرا بھی ’’ملکہ ترنم‘‘کے سُراورگلے پر سجتا ہے!اب وہ اوراُس کا ’’آغاجان‘‘(جس میں موجودتمام رزائل وخبائث ‘پاکستانی فوج کی پہچان اور’’امتیازی اوصاف ‘‘ہیں)توعالم برزخ سدھار چکے!فوج کے تمام ہتھیاروں کو مسلمانوں کا خون ’’زنگ آلود‘‘کرچکا ہے اور اہل ایمان کے علاوہ کسی اورکے خلاف ان ہتھیاروں سے ایک شعلہ بھی برآمد نہیں ہوسکتا!لہٰذاموجودہ صورت حال کو Media Hypeپیداکرکے قابو کرنے کی سرتوڑکوششیں جاری ہیں!لہٰذایہ وقت ہر پاکستانی مسلمان کے لیے وقتِ فکر وعمل ہے!اس وقت کااولین تقاضا یہی ہے کہ
؎اپنی دُنیا آپ پیدا کر اگر زِندوں میں ہے
آج اگر تھوڑے کہے کو بہت سمجھیں گے ،اپنی صفوں کوترتیب دینے اوراعدادوتیاری کے مراحل کوجلد از جلد شروع کرنے کا تہیہ کریں گے،فریضۂ اعدادکوکماحقہ اداکرنے پر پوری توجہ مرکوز رکھیں گے،فنونِ حرب وضرب سے آگہی اوراُن میں تخصص پیداکرنے کی جستجو کوسینوں میں زندہ کریں گے ،نوجوانانِ اسلام کومومن کے ’زیور‘سے آراستہ وپیراستہ کرنے اوراُن میں ذوقِ اسلحہ کی افزائش کرنے کی رِیت پروان چڑھائیں گے،صلاح الدین ایوبی کی طرح صلیبیوں کی پشت مضبوط کرنے والے آج کے ’’فاطمیوں‘‘،ملحد چینیوں اورمشرک ہندوؤں کی سرکوبی کاعزم کریں گے،امربالمعروف ونہی عن المنکر کے علمی ابواب کو عمل کی دنیا میں نافذکریں گے،طالبان ِعالیشان کے اختیارکردہ آن و شان والے منہج نبویؐ پرچلنے کاحوصلہ پیدا کریں گے تو ہی یہ ممکن ہے کہ کل کے لوگ‘شام کے سسک سسک کرزندگی کی آخری سانسوں سے ناطہ توڑتے بچوں کی تصویروں میں آپ کے نونہالوں کی شکلیں تلاش نہ کرپائیں ،تعلیم القرآن کے معصوموں کے کٹے حلقوم سے نکلتی چیخیں آپ کے اپنے آنگن میں بھی نہ سنی جائیں،آپ کے گلی کوچے اور بازار بھی راولپنڈی کے راجہ بازارکامنظرپیش نہ کرسکیں…مشرقی ترکستان کے لاکھوں مسلمانوں کی طرح آپ کو بھی ملحدین اورکمیونسٹوں کے ہاتھوں ’’تربیتی مراکز‘‘میں زندگیاں نہ بِتانی پڑیں اورآپ کے گھروں میں بھی آپ کی ماؤں بہنوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی چپٹی ناک والاچینی ملحد بھی بطور ِجاسوس رہائش پذیر نہ ہوسکے،گجرات کے نہتے اورمظلوم مسلمانوں کی طرح ہندو بلوائیوں کے نیزوں اورآتشیں اسلحے سے آپ کے خاندان محفوظ رہیں اورکشمیر کے پستےمسلمانوں کی طرح آپ کو بھی مشرک ہندوؤں کاجوروستم پسنے اورخون رونےپر مجبور نہ کرسکے!
شرق سے غرب تک…یہ صلیبی جنگ ہے!
ستمبر۲۰۰۱ءمیں امریکی صدرجارج بش نے وائٹ ہاؤس میں کھڑے ہوکرافغانستان پر صلیبی حملے کااعلان کیااورواضح الفاظ میں کہا :
This crusade, this war on terrorism is gonna take awhile. and the american people must be patient
’’یہ صلیبی جنگ ہے ،یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہےجو کہ ایک مدت تک جاری رہے گی،اورامریکی عوام کو لازماًصبرکامظاہرہ کرنا ہوگا‘‘
تقریباًدودہائیاں قبل کفرکے سردار اور سرغنہ نے جس جنگ کو شروع کرتے وقت ایک ہی سانس میں ’’صلیبی جنگ اوردہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا نام دیا تھا،وہ جنگ آج شرق سے غرب تک اہلِ اسلام اور اہلِ صلیب کے درمیان جاری ہے…مسلمانوں کی گردنوں پر قابض طبقات نے اپنے تمام تر وسائل صرف کرکے ،سارازور لگا کر اورتمام جتن کرکے اُن کے سامنے اس جنگ کوفکری اورعملی طورپرمحض ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ہی سمجھایا اور پڑھایا گیا…لیکن کفر،أئمۃ الکفر اورپوری دنیائے کفر روزِ اول سے اس جنگ کو اس کے حقیقی معنوں میں لڑرہی ہے!کلیسائے صلیب اوراُس کا پورا نظام (چاہے وہ کیتھولک ہو،پروٹسٹنٹ یاآرتھوڈوکس)اس جنگ میں مغرب کی پشت پر کھڑا ہے!اٹلی سے لے کر واشنگٹن تک اورماسکو سے لے کرلندن تک پوری دنیائے عیسائیت کے مذہنی پیشوا‘اس صلیبی جنگ میں ہرطرح سے شریک ہیں!یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا کےعوام وخواص میں صلیبی جنگوں کو جذبہ آئے روزبڑھتاجا رہا ہے۔صلیبی جنگوں کی اسی جنونی ذہنیت کوبڑھاوا دینے کے لیے مغرب میں لاتعدادصلیبی تنظیمیں قائم ہیں…
نیوزی لیند کے شہرکرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہونے والی صلیبی دہشت گردی ‘مسلمانوں کے خلاف اسی صلیبی جذبۂ انتقام کی ایک کڑی ہے… پورامغرب‘اسلام اوردینِ محمدی علی صاحبہٗ السلام کے خلاف بغض وعداوت سے بھرا ہوا ہے ۔مذکورہ اندوہ ناک حملہ میں بھی حملہ آورنے مسلمانوں کے خلاف صلیبی غیض وغضب کااظہارناصرف اپنے آتشیں اورخودکاراسلحے سے اُنہیں بے دردی سے شہید کرکے کیا بلکہ اپنے ہتھیاروں تک پروہ نام اورنشانیاں تحریر کیں‘جوصدیوں پہلے لڑے جانے والے معرکہ ہائے اسلام وصلیب میں صلیبی لشکروں کے سپاہیوں اور کارناموں سے ماخوذ ہیں اوراہلِ صلیب کے ہاں آج بھی نمایاں اور معززسمجھی جاتی ہیں!!!جس صلیبی دہشت گردنے مسجد پر حملہ کیا وہ پوری دنیا ئےعیسائیت کے نزدیک ہیرو ہےاور ایک ہمارے مسلمان ہیں جنہوں نے اسی صلیبی جنگ میں اپنے مجاہدین کی کردار کشی کی ،ان کےخلاف پروپیگنڈے کیے اور انہیں دہشت گردکہا…کاش کہ ہمارے مسلمانوں میں آج کے لامذہب عیسائیوں جتنی بھی مذہبی غیرت ہوتی تو آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا!!! یہود و نصاریٰ اپنے آبا ؤ اجداد کا بدلہ بے بس مسلمانوں سے لے رہے ہیں،خلافت عثمانیہ کے سپوتوں نے جہاد کے میدانوں میں جو زخم یہود و نصاریٰ کو دیے ان کی ذریت آج تک وہ زخم بھلا نہ سکی!
قارئین نے مجلہ نوائے افغان میں ’’قندھارایئربیس کا عقوبت خانہ‘‘کے عنوان سے شائع ہونے والی سلسلہ وار تحریر میں ایک افغان ‘مومندخان‘کے آپ بیتی یقیناًپڑھی ہوگی…اس میں شراب کے نشے میں دُھت امریکی فوجی اس پوری جنگ کے حوالےسے جن جذبات کا اظہارکرتا ہے ،وہ جذبات ہرصلیبی کافر کے ہیں!اُنہیں ذرا دوبارہ پڑھیے اورسوچئے کہ ہم مسلمانوں کی اکثریت جس جنگ کی حقیقت سے ناواقف اورناآشنا ہے،اُس جنگ کو مغرب کے عیسائی پورے مذہبی جوش وجذبے اورلگن سے لڑرہے ہیں!امریکی فوجی کہتا ہے:
’’جو ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے یا جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہو، اس میں کہیں نہ کہیں اسلام کی رمق رہ جاتی ہے اور زندگی میں کبھی نہ کبھی وہ اس کا اظہار کر ہی ڈالتا ہے لہٰذا ہمارے نزدیک مسلمانوں کا ایک ہی علاج ہے کہ پہلے انہیں دولت کا لالچ دے کر خریدو۔ ان کے ایمان کمزور کرو اور اس کے بعد انہیں مٹا ڈالو۔ یہی کام ہم نے بوسنیا میں کیا۔ یہی کام ہم فلسطین میں کرتے چلے آ رہے ہیں اور اب یہی کام ہم افغانستان و عراق میں کر رہے ہیں۔ مومند خان! تم بوسنیا کے مسلمانوں سے زیادہ لبرل اور آزاد خیال نہیں ہو سکتے، ان کی دو تین نسلیں ہماری ہم نوالہ و ہم پیالہ تھیں، ان کے بوڑھے مساجد و قرآن کے نام سے نا آشنا ہو چکے تھے اور ان کے جوانوں کے دن رات نائٹ کلبوں میں ہمارے ساتھ گزرتے، وہ شراب بھی پیتے اور سور کا گوشت بھی کھاتے اس کے باوجود تم نے دیکھا کہ ہمارے ہم مذہبوں نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟یہ درست ہے کہ بوسنیا کے مسلمان عملاً مسلمان نہیں تھے لیکن مومند خان ان کے نام تو مسلمانوں والے تھے۔
شمالی اتحاد والوں نے جو کچھ ہمارے لیے کیا وہ بجا مگر نام تو ان کے بھی مسلمانوں والے ہیں پھر انہوں نے ہمارے لیے جو کچھ کیا وہ دل و جان سے نہیں بلکہ دولت کے لالچ میں کیا ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کی دو ہی قسمیں ہیں اولاً…مخلص مسلمان جیسے طالبان و عرب مجاہدین، ثانیاً، لالچی جیسے شمالی اتحاد والے انہیں ہم ہڈی ڈالیں تو وفاداری کے اظہار کے لیے بھونکتے ہیں اور اپنے ہم مذہبوں کو کاٹتے ہیں۔ لالچی کتا صرف اس وقت تک وفادار ہوتا ہے جب تک اسے ہڈی ملتی رہے۔ جب ہڈی نہ ملے وہ اپنے مالک کو کاٹ کھاتا ہے لہٰذا قبل اس کے کہ یہ کتے ہمیں کاٹ کھائیں ان کا علاج بھی ہمیں کرنا ہو گا۔
پیارے دوست سنو! امریکہ میں رہنے سہنے کی جو آسائشیں و سہولتیں ہیں، افغانستان میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان نہ تو خوبصورت ملک ہے اور نہ اس میں سونے کے ذخائر ہیں اس کے باوجود ہم نے افغانستان پر حملہ کیا اور اب ہم ٹوٹی سڑکوں اور بنجر پہاڑوں والے ملک میں بیٹھے ہیں تو اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ موجودہ صدی عیسائیت و یہودیت کی بالادستی اور مسلمانوں کے خاتمہ کی صدی ہے۔ افغانستان میں طالبان و عرب مجاہدین کے خاتمہ کے بغیر اگر ہم عراق پر حملہ کرتے تو یہ منظم جنگجو ہمارے لیے کسی بڑی پریشانی کا سبب بن سکتے تھے۔ لہٰذا عراق پر حملہ اور اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں وسیع تر یہودی ریاست کا قیام اس کے لیے ضروری تھا کہ پہلے افغانستان میں موجود مجاہدین کی کمر توڑ دی جاتی۔ہمیں خوشی ہے کہ مسلمانوں کی صفوں میں تم جیسے لالچی اور دولت کے بھکاری موجود ہیں۔ تم جیسے لوگوں کے تعاون سے ہمیں افغانستان میں کامیابی حاصل ہوئی اس کے بعد بھی اسلامی دنیا پر ہم فتوحات اور صلیب کی بالادستی کے جو جھنڈے گاڑنے والے ہیں اس مقدس جنگ میں یقینا ًمسلمانوں میں سے ہمیں ہزاروں مومند خان مل جائیں گے۔ میری دعا ہے کہ خداوند یسوع مسیح اس قربانی کو قبول کرے اور تمہیں اپنی راہ میں قبول فرما لے‘‘۔
لہٰذااب وہ وقت آگیا ہے کہ امت بھی اس جنگ کی حقیقت کو پوری طرح سمجھے اوراس جنگ میں امت کے محاذپر ہرہرامتی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اپنا کردار ادا کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ ’’الکفرملۃ واحدۃ‘‘کے مطابق آج امریکی و یورپی کفر،روسی وچینی کفراور اسرائیلی وبھارتی کفریکجان ہوکرامتِ مسلمہ پرٹوٹ پڑے ہیں اورامتِ محمدیہ علی صاحبھا السلام کے خلاف ایک ہمہ جہت صلیبی جنگ لڑنے کے لیے میدانِ کارزارمیں اتررہے ہیں!ایسا نازک وقت تو شایداُمت پر اُس وقت بھی نہیں آیا تھا جب فتنۂ تاتارنے پوری اسلامی دنیامیں اندھیرمچا رکھا تھا!لہٰذا وقت کی نزاکت کو ہر پیروجواں سمجھے اوراپنے دین ودنیا کے دفاع کے لیے فریضۂ جہادوقتال کی ادائیگی کی فکر کرے…نصرتِ جہادومجاہدین کو اپنا شعار بنائے،اعدائے اسلام سے مقابلہ کے لیے اعدادوتیاری کے فریضہ کی اہمیت جانے ،سمجھے اوراس پر عمل کرے،شریعت کے ہرہرحکم کو دانتوں سے پکڑکراُن کفارکے خلاف برسرپیکار ہوجائے جودنیا بھر میں مسلمانوں کی جان ،مال،عزت،آبروکے درپے ہیں اوراپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے ناصرف اُن کی سرزمینوں میں کشت وخون کا بازارگرم کیے ہوئے ہیں بلکہ اپنے ممالک میں موجود مسلمانوں کو بھی تہہ تیغ کرنے کے لیے موقع اور تاک کی تلاش میں رہتے ہیں!!!پس اے اہلِ ایمان واسلام!دین کی پکار پر لبیک کہیے اورفرضِ عین کی ادائیگی کے لیے سامان کیجیے کیونکہ
؎قدم گھروں سے نکالنے کا جواز تم کو بُلا رہا ہے
نوائے افغان جہاد رجب المرجب۱۴۴۰ھ مارچ2019ء
t.me/shabaneshariyat
Comments
Post a Comment