"تمام علمائے امت کا اتفاق ہے کہ کسی خطہ زمین کے دارالاسلام ہونے کا مدار اس بات پر نہیں ہے کہ وہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کیا ہے، بلکہ اس مدار قانونِ اسلام کے نفاذ پر ہے۔ جس ملک میں برسرِاقتدار طبقہ کی جانب سے عوام کو اسلامی قانون کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کا موقع نہ دیا جائے،جہاں کفر ہے جاہلیت کا آئین وقانون مسلط ہو اور جہاں کے بے بس عوام مسلسل احتجاج کے باوجود خدائی قانون کے بجائے طاغوتی قانون کے مطابق اپنے مقدمات فیصلے کرنے پر مجبور ہوں اسے ہزار بار مسلمانوں کا ملک کہہ لیجیے،لیکن اسے حقیقی معنوں اسلامی مملکت اور دارالاسلام کہتے ہوئے حیا آتی ہے۔"
محدثِ عصر حضرت علامہ سید یوسف بنوری رحمہ اللہ
Comments
Post a Comment